Surah Yusuf
Surah Yusuf (Joseph) is Surah 12 of the Holy Quran, a Meccan Surah with 111 verses, available here in Urdu.
Verse 12:1
الٓرٰ ۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟۫
Alif-Laaam-Raa. Tilka ʹAayaatul kitaabil Mubeen.
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
Verse 12:2
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ۟
ʹInnaaa ʹañzalnaahu Q̣urʹaanan ʻArabiyyal laʻallakum taʻq̣iloon.
ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو
Verse 12:3
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ ۖۗ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ ۟
Naḥnu naq̣uṣṣu ʻalayka ʹaḥsanal q̣aṣaṣi bimaaa ʹawḥaynaaa ʹilayka haaẓal Q̣urʹaan: wa-ʹiñ kuñta miñ q̣ablihee laminal g̣aafileen.
(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے
Verse 12:4
اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ ۟
ʹIẓ q̣aala Yoosufu liʹabeehi yaaaʹabati ʹinnee raʹaytu ʹaḥada ʻashara kawkabañw washshamsa walq̣amara raʹaytuhum lee saajideen.
جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
Verse 12:5
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤی اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۟
Q̣aala yaa-bunayya laa- taq̣ṣuṣ ruʹyaaka ʻalaaa ʹikhwatika fayakeedoo laka kaydaa! ʹInnash shayṭaana lil-ʹiñsaani ʻaduwwum mubeen!
انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
Verse 12:6
وَكَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَیُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَعَلٰۤی اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤی اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰقَ ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ۟۠
Wa-kaẓaalika yajtabeeka Rabbuka wa-yuʻallimuka miñ taʹweelil ʹaḥaadees̤i wa-yutimmu niʻmatahoo ʻalayka wa-ʻalaaa ʹaali Yaʻq̣ooba kamaaa ʹatammahaa ʻalaaa ʹabawayka miñ q̣ablu ʹIbraaheema wa-ʹisḥaaq̣! ʹInna Rabbaka ʻAleemun Ḥakeem.
اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
Verse 12:7
لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآىِٕلِیْنَ ۟
Laq̣ad kaana fee yoosufa wa-ʹikhwatihee ʹAayaatul lissaaaʹileen.
ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں
Verse 12:8
اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ ۟ۚۖ
ʹIẓ q̣aaloo la-Yoosufu wa-ʹakhoohu ʹaḥabbu ʹilaaa ʹabeenaa minnaa wa-naḥnu ʻuṣbah! ʹInna ʹabaanaa lafee ḍalaalim mubeen!
جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں
Verse 12:9
قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَتَكُوْنُوْا مِنْ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ ۟
ʹUq̣tuloo Yoosufa ʹawiṭra ḥoohu ʹarḍañy yakhlu lakum wajhu ʹabeekum wa-takoonoo mim baʻdihee q̣awmañ ṣaaliḥeen!
تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے
Verse 12:10
قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَاَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۟
Q̣aala q̣aaaʹilum minhum laa- taq̣tuloo Yoosufa wa-ʹalq̣oohu fee g̣ayaabatil jubbi yaltaq̣iṭhu baʻḍus say-yaarati ʹiñ kuñtum faa-ʻileen.
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)
Verse 12:11
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ ۟
Q̣aaloo yaaaʹabaanaa maa- laka laa- taʹmannaa ʻalaa Yoosufa wa-ʹinnaa lahoo lanaaṣiḥoon?
(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں
Verse 12:12
اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ۟
ʹArsilhu maʻanaa g̣adañy yartaʻwa- yalʻab wa-ʹinnaa lahoo laḥaafiz̤̣oon.
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں
Verse 12:13
قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ ۟
Q̣aala ʹinnee layaḥzununeee ʹañ taẓhaboo bihee wa-ʹakhaafu ʹañy yaʹkulahuẓ ẓiʹbu wa-ʹañtum ʻanhu g̣aafiloon.
انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے
Verse 12:14
قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۟
Q̣aaloo laʹin ʹakalahuẓ ẓiʹbu wa-naḥnu ʻuṣbatun ʹinnaaa ʹiẓal lakhaasiroon!
وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے
Verse 12:15
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۟
Falammaa ẓahaboo bihee wa-ʹajmaʻooo ʹañy yajʻaloohu fee g̣ayaabatil jubb: wa-ʹawḥaynaaa ʹilayhi latunabbiʹannahum̃ biʹamrihim haaẓaa wahum laa- yashʻuroon.
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
Verse 12:16
وَجَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَ ۟ؕ
Wa-jaaaʹooo ʹabaahum ʻishaaaʹañy yabkoon.
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
Verse 12:17
قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ ۟
Q̣aaloo yaaaʹabaanaaa ʹinnaa ẓahabnaa nastabiq̣u wa-taraknaa Yoosufa ʻiñda mataaʻinaa faʹakalahuẓ ẓiʹb. Wa-maaa ʹañta bimuʹminil lanaa wa-law kunnaa ṣaadiq̣een.
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
Verse 12:18
وَجَآءُوْ عَلٰی قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ ؕ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ۟
Wa-jaaaʹoo ʻalaa q̣ameeṣihee bidamiñ kaẓib. Q̣aala bal sawwalat lakum ʹañfusukum ʹamraa. Faṣabruñ jameel: wallaahul Mustaʻaanu ʻalaa maa- taṣifoon.
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
Verse 12:19
وَجَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰی دَلْوَهٗ ؕ قَالَ یٰبُشْرٰی هٰذَا غُلٰمٌ ؕ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً ؕ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۟
Wa-jaaaʹat sayyaaratuñ faʹarsaloo waaridahum faʹadlaa dalwah. Q̣aala yaa-bushraa haaẓaa g̣ulaam! Wa-ʹasarroohu biḍaaʻah! Wallaahu ʻaleemum bimaa yaʻmaloon!
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
Verse 12:20
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ ۟۠
Wa-sharawhu bis̤amanim bakhsiñ daraahima maʻdoodah: wa-kaanoo feehi minaz zaahideen!
اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا
Verse 12:21
وَقَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤی اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا ؕ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ؗ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ؕ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟
Wa-q̣aalal laẓish taraahu mim Miṣra limraʹatiheee ʹakrimee mas̤waahu ʻasaaa ʹañy yañfaʻanaaa ʹaw nattakhiẓahoo waladaa. Wa-kaẓaalika mak-kannaa li-Yoosufa fil ʹarḍi, wa-linuʻallimahoo miñ taʹweelil ʹaḥaadees̤. Wallaahu g̣aalibun ʻalaaa ʹamrihee wa-laakinna ʹaks̤aran naasi laa yaʻlamoon.
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
Verse 12:22
وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ؕ وَكَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۟
Wa-lammaa balag̣a ʹashuddahooo ʹaataynaahu ḥukmañw waʻilmaa: wa-kaẓaalika najzil Muḥsineen.
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
Verse 12:23
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَیْتَ لَكَ ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۟
Wa-raawadat-hul latee huwa fee baytihaa ʻan nafsihee wa-g̣allaq̣atil ʹabwaaba wa-q̣aalat hayta lak! Q̣aala maʻaaẓal laahi ʹinnahoo rabbeee ʹaḥsana mas̤waay! Innahoo laa- yufliḥuz̤̣ z̤̣aalimoon!
تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
Verse 12:24
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَالْفَحْشَآءَ ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ ۟
Wa-laq̣ad hammat bihee wa-hamma bihaa laaa-law ʹar raʹaa burhaana Rabbih: Kaẓaalika linaṣrifa ʻanhus soooʹa wal-faḥshaaaʹ: ʹinnahoo min ʻibaadinal Mukhlaṣeen.
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
Verse 12:25
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟
Wastabaq̣al baaba wa-q̣addat q̣ameeṣahoo miñ duburiñw waʹalfayaa sayyidahaa ladal baab. Q̣aalat maa- jazaaaʹu man ʹaraada biʹahlika soooʹan ʹillaaa ʹañy yusjana ʹaw ʻaẓaabun ʹaleem?
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
Verse 12:26
قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ ۟
Q̣aala hiya raawadatnee ʻan nafsee wa-shahida shaahidum min ʹahlihaa: ʹiñ kaana q̣ameeṣuhoo q̣udda miñ q̣ubuliñ faṣadaq̣at wa-huwa minal kaaẓibeen!
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
Verse 12:27
وَاِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۟
Wa-ʹiñ kaana q̣ameeṣuhoo q̣udda miñ duburiñ fakaẓabat wa-huwa minaṣ ṣaadiq̣een!
اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے
Verse 12:28
فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ ۟
Falammaa raʹaa q̣ameeṣahoo q̣udda miñ duburiñ q̣aala ʹinnahoo miñ kaydikunna! ʹInna kaydakunna ʻaz̤̣eem!
اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں
Verse 12:29
یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا ٚ وَاسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕیْنَ ۟۠
Yoosufu ʹaʻriḍ ʻan haaẓaa wastag̣firee liẓambiki ʹinnaki kuñti minal khaaṭiʹeen!
یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے
Verse 12:30
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۟
Wa-q̣aala niswatuñ fil Madeenatim raʹatul ʻAzeezi turaawidu fataahaa ʻan nafsih: q̣ad shag̣afahaa ḥubbaa: ʹinnaa lanaraahaa fee ḍalaalim mubeen.
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
Verse 12:31
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ ۟
Falammaa samiʻat bimakrihinna ʹarsalat ʹilayhinna wa-ʹaʻtadat lahunna muttakaʹañw waʹaatat kulla waaḥidatim min-hunna sikkeenañw waq̣aalatikh ruj ʻalayhinn. Falammaa raʹaynahooo ʹakbarnahoo wa-q̣aṭṭaʻna ʹaydiyahunna wa-q̣ulna ḥaasha lillaahi maa- haaẓaa basharaa! ʹIn haaẓaaa ʹillaa malakuñ kareem!
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
Verse 12:32
قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ ؕ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ؕ وَلَىِٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَلَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ ۟
Q̣aalat faẓaalikunnal laẓee lumtunnanee feeh! Wa-laq̣ad raawattuhoo ʻan nafsihee fastaʻṣam! Wa-laʹil lam yafʻal maaa ʹaamuruhoo layusjananna wa-layakoonam minaṣ ṣaag̣ireen!
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
Verse 12:33
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ ۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ ۟
Q̣aala Rabbis sijnu ʹaḥabbu ʹilayya mimmaa yadʻoonaneee ʹilayh: wa-ʹillaa taṣrif ʻannee kaydahunna ʹaṣbu ʹilayhinna wa-ʹakum minal jaahileen.
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
Verse 12:34
فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟
Fastajaaba lahoo Rabbuhoo faṣarafa ʻanhu kaydahunn: ʹinnahoo Huwas Sameeʻul ʻAleem.
تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے
Verse 12:35
ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰی حِیْنٍ ۟۠
S̤umma badaa lahum mim baʻdi maa- raʹawul ʹAayaati layasjununnahoo ḥattaa ḥeen.
پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں
Verse 12:36
وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا ۚ وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۟
Wa-dakhala maʻa hussijna fatayaan. Q̣aala ʹaḥaduhumaaa ʹinneee ʹaraaneee ʹaʻṣiru khamraa. Wa-q̣aalal ʹaakharu ʹinneee ʹaraaneee ʹaḥmilu fawq̣a raʹsee khubzañ taʹkuluṭ ṭayru minh. Nabbiʹnaa bitaʹweelih: ʹinnaa naraaka minal Muḥsineen.
اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں
Verse 12:37
قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ۟
Q̣aala laa- yaʹteekumaa ṭaʻaamuñ turzaq̣aaniheee ʹillaa nabbaʹtukumaa bitaʹweelihee q̣abla ʹañy yaʹtiyakumaa: ẓaalikumaa mimmaa ʻallamanee Rabbee. ʹInnee taraktu millata q̣awmil laa yuʹminoona billaahi wa-hum̃ bil-ʹAakhirati hum kaafiroon.
یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں
Verse 12:38
وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ ۟
Wattabaʻtu Millata ʹaabaaaʹeee ʹIbraaheema wa-ʹIsḥaaq̣a wa-Yaʻq̣oob; maa- kaana lanaaa ʹan nushrika billaahi miñ shayʹ: ẓaalika miñ faḍlil laahi ʻalaynaa wa-ʻalan naasi wa-laakinna ʹaks̤aran naasi laa- yashkuroon.
اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
Verse 12:39
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۟ؕ
Yaa-ṣaaḥibayis sijni ʹaʹarbaabum mutafarriq̣oona khayrun ʹamil laahul Waaḥidul Q̣ahhaar?
میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟
Verse 12:40
مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟
Maa- taʻbudoona miñ dooniheee ʹillaaa ʹasmaaaʹañ sammaytumoohaaa ʹañtum wa-ʹaabaaaʹukum maaa ʹañzalal laahu bihaa miñ sulṭaan: ʹinil Ḥukmu ʹillaa lillaah: ʹamara ʹallaa taʻbudooo ʹillaaa ʹiyyaah: ẓaalikad Deenul Q̣ayyimu wa-laakinna ʹaks̤aran naasi laa- yaʻlamoon.
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
Verse 12:41
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا ۚ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِ ۟ؕ
Yaa-ṣaaḥibayis sijni ʹammaaa ʹaḥadukumaa fayasq̣ee rabbahoo khamraa: wa-ʹammal ʹaakharu fayuṣlabu fataʹkuluṭ ṭayru mir raʹsih. Q̣uḍiyal ʹamrul laẓee feehi tastaftiyaan.
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے
Verse 12:42
وَقَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ ؗ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَ ۟ؕ۠
Wa-q̣aala lillaẓee z̤̣anna ʹannahoo naajim minhumaẓ kurnee ʻiñda rabbik. Faʹañsaahush Shayṭaanu ẓikra rabbihee falabis̤a fis sijni biḍʻa sineen.
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
Verse 12:43
وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰی سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ ۟
Wa-q̣aalal maliku ʹinneee ʹaraa sabʻa baq̣araatiñ simaaniñy yaʹkuluhunna sabʻun ʻijaafuñw Wasabʻa sumbulaatin khuḍriñw waʹukhara yaabisaat. Yaaaʹayyuhal malaʹu ʹaftoonee fee ruʹyaaya ʹiñ kuñtum lirruʹyaa taʻburoon.
اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ
Verse 12:44
قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ ۚ وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ ۟
Q̣aalooo ʹaḍg̣aas̤u ʹaḥlaam: Wa-maa naḥnu bitaʹweelil ʹaḥlaami biʻaalimeen.
انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی
Verse 12:45
وَقَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ ۟
Wa-q̣aalal laẓee najaa minhumaa waddakara baʻda ʹummatin ʹana ʹunabbiʹukum̃ bitaʹweelihee faʹarsiloon.
اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
Verse 12:46
یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ ۟
Yoosufu ʹayyuhaṣ Ṣiddeeq̣u ʹaftinaa fee sabʻi baq̣araatiñ simaaniñy yaʹkuluhunna sabʻun ʻijaafuñw Wasabʻi sumbulaatin khuḍriñw waʹukhara yaabisaatil laʻalleee ʹarjiʻu ʹilan naasi laʻallahum yaʻlamoon.
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں)۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
Verse 12:47
قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ ۟
Q̣aala tazraʻoona sabʻa sineena daʹabaa: famaa ḥaṣattum faẓaroohu fee sumbuliheee ʹillaa q̣aleelam mimmaa taʹkuloon.
انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا
Verse 12:48
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ ۟
S̤umma yaʹtee mim baʻdi ẓaalika sabʻuñ shidaaduñy yaʹkulna maa- q̣addamtum lahunna ʹillaa q̣aleelam mimmaa tuḥṣinoon.
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
Verse 12:49
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْهِ یَعْصِرُوْنَ ۟۠
S̤umma yaʹtee mim baʻdi ẓaalika ʻaamuñ feehi yug̣aas̤un naasu wa-feehi yaʻṣiroon.
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
Verse 12:50
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰی رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ ۟
Wa-q̣aalal malikuʹ toonee bih. Falammaa jaaaʹahur rasoolu q̣aalar jiʻ ʹilaa rabbika fasʹalhu maa- baalun niswatil laatee q̣aṭṭaʻna ʹaydiyahunn? ʹInna Rabbee bikaydihinna ʻAleem.
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
Verse 12:51
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْـٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ؗ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۟
Q̣aala maa- khaṭbukunna ʹiẓ raawattunna Yoosufa ʻan nafsih? Q̣ulna Ḥaasha lillaahi maa- ʻalimnaa ʻalayhi miñ soooʹ! Q̣aalatim raʹatul ʻAzeezil ʹaana ḥaṣḥaṣal ḥaq̣q̣: ʹana raawattuhoo ʻan nafsihee wa-ʹinnahoo laminaṣ Ṣaadiq̣een.
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
Verse 12:52
ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىِٕنِیْنَ ۟
Ẓaalika liyaʻlama ʹannee lam ʹakhunhu bilg̣aybi wa-ʹannal laaha laa- yahdee kaydal khaaaʹineen.
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
Verse 12:53
وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟
Wa-maaa ʹubarriʻu nafsee: ʹinnan nafsa laʹammaaratum bissoooʹi ʹillaa maa- raḥima Rabbee: ʹinna Rabbee G̣afoorur Raḥeem.
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
Verse 12:54
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ ۟
Wa-q̣aalal malikuʹ toonee biheee ʹastakhliṣhu linafsee. Falammaa kallamahoo q̣aala ʹinnakal yawma ladaynaa makeenun ʹameen!
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
Verse 12:55
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ ۟
Q̣aalaj ʻalnee ʻalaa khazaaaʹinil ʹarḍ: ʹinnee ḥafeez̤̣un ʻaleem.
(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں
Verse 12:56
وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَلَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ۟
Wa-kaẓaalika makkannaa li-Yoosufa fil ʹarḍi yatabawwaʹu minhaa ḥays̤u yashaaaʹ. Nuṣeebu bi-Raḥmatinaa man nashaaaʹu wa-laa nuḍeeʻu ʹajral Muḥsineen.
اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
Verse 12:57
وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۟۠
Wa-laʹajrul ʹAakhirati khayrul lillaẓeena ʹaamanoo wa-kaanoo yattaq̣oon.
اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے
Verse 12:58
وَجَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ ۟
Wa-jaaaʹa ʹikhwatu Yoosufa fadakhaloo ʻalayhi faʻarafahum wa-hum lahoo muñkiroon.
اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے
Verse 12:59
وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَاَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ ۟
Wa-lammaa jahhazahum̃ bijahaazihim q̣aalaʹ toonee biʹakhil lakum min ʹabeekum: ʹalaa tarawna ʹanneee ʹoofil kayla wa-ʹana khayrul muñzileen?
جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں
Verse 12:60
فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ ۟
Faʹil lam taʹtoonee bihee falaa kayla lakum ʻiñdee wa-laa taq̣raboon.
اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے
Verse 12:61
قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ ۟
Q̣aaloo sanuraawidu ʻanhu ʹabaahu wa-ʹinnaa lafaaʻiloon.
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے
Verse 12:62
وَقَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤی اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ۟
Wa-q̣aala lifityaanihij ʻaloo biḍaaʻatahum fee riḥaalihim laʻallahum yaʻrifoonahaaa ʹiẓañ q̣alabooo ʹilaaa ʹahlihim laʻallahum yarjiʻoon.
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
Verse 12:63
فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤی اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ۟
Falammaa rajaʻooo ʹilaaa ʹabeehim q̣aaloo yaaaʹabaanaa muniʻa minnal kaylu faʹarsil maʻanaaa ʹakhaanaa naktal wa-ʹinnaa lahoo laḥaafiz̤̣oon.
جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں
Verse 12:64
قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤی اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا ۪ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۟
Q̣aala hal ʹaamanukum ʻalayhi ʹillaa kamaaa ʹamiñtukum ʻalaaa ʹakheehi miñ q̣abl? Fal-laahu khayrun ḥaafiz̤̣aa, wa-Huwa ʹArḥamur raaḥimeen!
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
Verse 12:65
وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا ۚ وَنَمِیْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ ۟
Wa-lammaa fataḥoo mataaʻahum wajadoo biḍaaʻatahum ruddat ʹilayhim. Q̣aaloo yaaaʹabaanaa maa- nabg̣ee? Haaẓihee biḍaaʻatunaa ruddat ʹilaynaa: wa-nameeru ʹahlanaa wa-naḥfaz̤̣u ʹakhaanaa wa-nazdaadu kayla baʻeer. Ẓaalika kayluñy yaseer.
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
Verse 12:66
قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ ۟
Q̣aala lan ʹursilahoo maʻakum ḥattaa tuʹtooni maws̤iq̣am minal laahi lataʹtunnanee biheee ʹillaaa ʹañy yuḥaaṭa bikum. Falammaaa ʹaatawhu maws̤iq̣ahum q̣aalal laahu ʻalaa maa- naq̣oolu Wakeel!
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
Verse 12:67
وَقَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ؕ وَمَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ ۚ وَعَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ ۟
Wa-q̣aala yaa-baniyya laa- tadkhuloo mim baabiñw waa-ḥidiñw wadkhuloo min ʹabwaabim mutafarriq̣ah. Wa-maaa ʹug̣nee ʻañkum minal laahi miñ shayʹ: ʹinil ḥukmu ʹillaa lillaah: ʻalayhi tawakkalt: wa-ʻalayhi fal-yatawakkalil Mutawakkiloon.
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
Verse 12:68
وَلَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا ؕ وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟۠
Wa-lammaa dakhaloo min ḥays̤u ʹamarahum ʹaboohum; maa- kaana yug̣nee ʻanhum minal laahi miñ shayʹin ʹillaa ḥaajatañ fee nafsi Yaʻq̣ooba q̣aḍaahaa. Wa-ʹinnahoo laẓoo ʻilmil limaa ʻallamnaahu wa-laakinna ʹaks̤aran naasi laa- yaʻlamoon.
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
Verse 12:69
وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰۤی اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟
Wa-lammaa dakhaloo ʻalaa Yoosufa ʹaawaaa ʹilayhi ʹakhaahu q̣aala ʹinneee ʹana ʹakhooka falaa tabtaʹis bimaa kaanoo yaʻmaloon.
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
Verse 12:70
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۟
Falammaa jahhazahum̃ bijahaazihim jaʻalas siq̣aayata fee raḥli ʹakheehi s̤umma ʹaẓẓana Muʹaẓẓinun ʹayyatuhal ʻeeru ʹinnakum lasaariq̣oon!
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
Verse 12:71
قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۟
Q̣aaloo wa-ʹaq̣baloo ʻalayhim maaẓaa tafq̣idoon?
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
Verse 12:72
قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ ۟
Q̣aaloo nafq̣idu ṣuwaaʻal maliki wa-limañ jaaaʹa bihee ḥimlu baʻeeriñw waʹana bihee zaʻeem.
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
Verse 12:73
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ ۟
Q̣aaloo tallaahi laq̣ad ʻalimtum maa jiʹnaa linufsida fil ʹarḍi wa-maa kunnaa saariq̣een.
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں
Verse 12:74
قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ ۟
Q̣aaloo famaa jazaaaʹuhooo ʹiñ kuñtum kaaẓibeen?
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
Verse 12:75
قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۟
Q̣aaloo jazaaaʹuhoo mañw wujida fee raḥlihee fahuwa jazaaaʹuh. Kaẓaalika najziz̤̣ z̤̣aalimeen!
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
Verse 12:76
فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ؕ وَفَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ ۟
Fabadaʹa biʹawʻiyatihim q̣abla wiʻaaaʹi ʹakheehi s̤ummas takhrajahaa miñw wiʻaaaʹi ʹakheeh. Kaẓaalika kidnaa li-Yoosuf. Maa- kaana liyaʹkhuẓa ʹakhaahu fee deenil maliki ʹillaaa ʹañy yashaaaʹal laah. Narfaʻu darajaatim man nashaaaʹ: wa-fawq̣a kulli ẓee ʻilmin ʻAleem.
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
Verse 12:77
قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَلَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ ۟
Q̣aalooo ʹiñy yasriq̣ faq̣ad saraq̣a ʹakhul lahoo miñ q̣abl. Faʹasarrahaa Yoosufu fee nafsihee wa-lam yubdihaa lahum. Q̣aala ʹañtum sharrum makaanaa; wallaahu ʹaʻlamu bimaa taṣifoon!
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
Verse 12:78
قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۟
Q̣aaloo yaaaʹayyuhal ʻAzeezu ʹinna lahooo ʹabañ shaykhañ kabeerañ fakhuẓ ʹaḥadanaa makaanah; ʹinnaa naraaka minal Muḥsineen.
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
Verse 12:79
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ ۟۠
Q̣aala maʻaaẓal laahi ʹan naʹkhuẓa ʹillaa mañw wajadnaa mataaʻanaa ʻiñdahooo ʹinnaaa ʹiẓal laz̤̣aalimoon.
(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں
Verse 12:80
فَلَمَّا اسْتَیْـَٔسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰی یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ ۚ وَهُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ ۟
Falammas tayʹasoo minhu khalaṣoo najiyyaa. Q̣aala kabeeruhum ʹalam taʻlamooo ʹanna ʹabaakum q̣ad ʹakhaẓa ʻalaykum maws̤iq̣am minal laahi wamiñ q̣ablu maa- farraṭtum fee Yoosuf? Falan ʹabraḥal ʹarḍa ḥattaa yaʹẓana leee ʹabeee ʹaw yaḥkumal laahu lee; wa-huwa khayrul ḥaakimeen.
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
Verse 12:81
اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤی اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ ۚ وَمَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ ۟
ʹIrjiʻooo ʹilaaa ʹabeekum faq̣ooloo yaaaʹabaanaaa ʹinnab naka saraq̣! Wa-maa shahidnaaa ʹillaa bimaa ʻalimnaa wa-maa kunnaa lilg̣aybi ḥaafiz̤̣een!
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
Verse 12:82
وَسْـَٔلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَالْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا ؕ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۟
Wasʹalil q̣aryatal latee kunnaa feehaa walʻeeral lateee ʹaq̣balnaa feehaa, wa-ʹinnaa laṣaadiq̣oon.
اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
Verse 12:83
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ ؕ عَسَی اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ ۟
Q̣aala bal sawwalat lakum ʹañfusukum ʹamraa. Faṣabruñ jameel. ʻAsal laahu ʹañy yaʹ-tiyanee bihim jameeʻaa. ʹInna-Hoo Huwal ʻAleemul Ḥakeem.
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
Verse 12:84
وَتَوَلّٰی عَنْهُمْ وَقَالَ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوْسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ ۟
Wa-tawallaa ʻanhum wa-q̣aala yaaaʹasafaa ʻalaa Yoosufa wabyaḍḍat ʻaynaahu minal ḥuzni fahuwa kaz̤̣eem.
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
Verse 12:85
قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ ۟
Q̣aaloo tallaahi taftaʹu taẓkuru Yoosufa ḥattaa takoona ḥaraḍan ʹaw takoona minal haalikeen!
بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے
Verse 12:86
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْۤ اِلَی اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۟
Q̣aala ʹinnamaaa ʹashkoo bas̤s̤ee waḥuzneee ʹilal laahi wa-ʹaʻlamu minal laahi maa laa- taʻlamoon.
انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
Verse 12:87
یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَاَخِیْهِ وَلَا تَایْـَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ ۟
Yaa-baniyyaẓ haboo fataḥassasoo miñy Yoosufa wa-ʹakheehi wa-laa tayʹasoo mir Rawḥil laah: ʹinnahoo laa- yayʹasu mir Rawḥil laahi ʹillal q̣awmul Kaafiroon.
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
Verse 12:88
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ ۟
Falammaa dakhaloo ʻalayhi q̣aaloo yaaaʹayyuhal ʻAzeezu massanaa wa-ʹahlanaḍ ḍurru wa-jiʹnaa bibiḍaaʻatim muzjaatiñ faʹawfi lanal kayla wa-taṣaddaq̣ ʻalaynaa: ʹinnal laaha yajzil Mutaṣaddiq̣een.
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
Verse 12:89
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ ۟
Q̣aala hal ʻalimtum maa faʻaltum̃ bi-Yoosufa wa-ʹakheehi ʹiẓ ʹañtum jaahiloon?
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
Verse 12:90
قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَهٰذَاۤ اَخِیْ ؗ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ۟
Q̣aalooo ʹa-ʹinnaka laʹañta Yoosuf? Q̣aala ʹana Yoosufu wa-haaẓaaa ʹakhee; q̣ad mannal laahu ʻalaynaa. ʹInnahoo mañy yattaq̣i wa-yaṣbir faʹinnal laaha laa- yuḍeeʻu ʹajral Muḥsineen.
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
Verse 12:91
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِـِٕیْنَ ۟
Q̣aaloo tallaahi laq̣ad ʹaas̤arakal laahu ʻalaynaa wa-ʹiñ kunnaa lakhaaṭiʹeen!
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
Verse 12:92
قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ؗ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۟
Q̣aala laa- tas̤reeba ʻalaykumul yawm. Yag̣firul laahu lakum wa-Huwa ʹArḥamur raaḥimeen!
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
Verse 12:93
اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰی وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا ۚ وَاْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ ۟۠
ʹIẓhaboo biq̣ameeṣee haaẓaa faʹalq̣oohu ʻalaa wajhi ʹabee yaʹti baṣeeraa. Waʹtoonee biʹahlikum ʹajmaʻeen.
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
Verse 12:94
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْلَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ ۟
Wa-lammaa faṣalatil ʻeeru q̣aala ʹaboohum ʹinnee laʹajidu reeḥa Yoosufa Laaa-law ʹañ tufannidoon.
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
Verse 12:95
قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ ۟
Q̣aaloo tallaahi ʹinnaka lafee ḍalaalikal q̣adeem.
وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں
Verse 12:96
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰی وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۟
Falammaaa ʹañ jaaa ʹalbasheeru ʹalq̣aahu ʻalaa wajhihee fartadda baṣeeraa. Q̣aala ʹalam ʹaq̣ul lakum. ʹinneee ʹaʻlamu minal laahi maa laa- taʻlamoon?
جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
Verse 12:97
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِـِٕیْنَ ۟
Q̣aaloo yaaaʹabaanas tag̣fir lanaa ẓunoobanaaa ʹinnaa kunnaa khaaṭiʹeen.
بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے
Verse 12:98
قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۟
Q̣aala sawfa ʹastag̣firu lakum Rabbee: ʹinna-Hoo Huwal G̣afoorur Raḥeem.
انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
Verse 12:99
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰۤی اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ ۟ؕ
Falammaa dakhaloo ʻalaa Yoosufa ʹaawaaa ʹilayhi ʹabawayhi wa-q̣aalad khuloo Miṣra ʹiñ shaaa ʹallaahu ʹaamineen.
جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا
Verse 12:100
وَرَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا ۚ وَقَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ ؗ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا ؕ وَقَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ ۟
Wa-rafaʻa ʹabawayhi ʻalal ʻarshi wa-kharroo lahoo sujjadaa. Wa-q̣aala yaaaʹabati haaẓaa taʹweelu ruʹyaaya miñ q̣ablu q̣ad jaʻalahaa Rabbee ḥaq̣q̣aa! Wa-q̣ad ʹaḥsana beee ʹiẓ ʹakhrajanee minas sijni wa-jaaaʹa bikum minal badwi mim baʻdi ʹan nazag̣ash shayṭaanu baynee wa-bayna ʹikhwatee. ʹInna Rabbee Laṭeeful limaa yashaaaʹ. ʹInna-Hoo Huwal ʻAleemul Ḥakeem.
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
Verse 12:101
رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ۟
Rabbi q̣ad ʹaataytanee minal mulki wa-ʻallamtanee miñ taʹweelil ʹaḥaadees̤,― Faaṭiras samaawaati wal-ʹarḍ! ʹAñta Waliyyee fid dunyaa wal-ʹAakhirah. Tawaffanee Muslimañw waʹalḥiq̣nee biṣ-Ṣaaliḥeen.
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
Verse 12:102
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَهُمْ یَمْكُرُوْنَ ۟
Ẓaalika min ʹambaaaʹil g̣aybi nooḥeehi ʹilayk: wa-maa kuñta ladayhim ʹiẓ ʹajmaʻooo ʹamrahum wa-hum yamkuroon.
(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے
Verse 12:103
وَمَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۟
Wa-maaa ʹaks̤arun naasi wa-law ḥaraṣta bi-Muʹmineen.
اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں
Verse 12:104
وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۟۠
Wa-maa tasʹaluhum ʻalayhi min ʹajr: ʹin huwa ʹillaa Ẓikrul lilʻaalameen.
اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے
Verse 12:105
وَكَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ ۟
Wa-kaʹayyim min ʹAayatiñ fis samaawaati wal-ʹarḍi yamurroona ʻalayhaa wa-hum ʻanhaa muʻriḍoon!
اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں
Verse 12:106
وَمَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ۟
Wa-maa yuʹminu ʹaks̤aruhum̃ billaahi ʹillaa wa-hum mushrikoon!
اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں
Verse 12:107
اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۟
ʹA-faʹaminooo ʹañ taʹtiyahum G̣aashiyatum min ʻaẓaabil laahi ʹaw taʹtiyahumus saaʻatu wahum bag̣tatañw laa- yashʻuroon?
کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
Verse 12:108
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَی اللّٰهِ ؔ۫ عَلٰی بَصِیْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ؕ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ ۟
Q̣ul haaẓihee sabeeleee ʹadʻooo ʹilal laah:― ʻalaa Baṣeeratin ʹana wa-manit tabaʻanee. Wa-Subḥaanal laahi wa-maaa ʹana minal mushrikeen!
کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
Verse 12:109
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰی ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۟
Wa-maaa ʹarsalnaa miñ q̣ablika ʹillaa rijaalan nooḥeee ʹilayhim min ʹahlil q̣uraa. ʹAfalam yaseeroo fil ʹarḍi Fayañz̤̣uroo kayfa kaana ʻaaq̣ibatul laẓeena miñ q̣ablihim? Wa-la-Daarul ʹAakhirati khayrul lillaẓeenat taq̣aw. ʹAfalaa taʻq̣iloon?
اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
Verse 12:110
حَتّٰۤی اِذَا اسْتَیْـَٔسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۟
Ḥattaaa ʹiẓas tayʹasar rusulu waz̤̣annooo ʹannahum q̣ad kuẓiboo jaaaʹahum naṣ-runaa fanujjiya man nashaaaʹ. Wa-laa yuraddu baʹsunaa ʻanil q̣awmil mujrimeen.
یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا
Verse 12:111
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی وَلٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَتَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّهُدًی وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۟۠
Laq̣ad kaana fee q̣aṣaṣihim ʻibratul liʹulil ʹalbaab. Maa- kaana ḥadees̤añy yuftaraa wa-laakiñ taṣdeeq̣al laẓee bayna yadayhi wa-tafṣeela kulli shayʹiñw wa-Hudañw wa-Raḥmatal liq̣awmiñy yuʹminoon.
ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے